YouGov Membership

Share Your Point of View and Help Make World a Better Place
Click Here to Be Part of the Team, Be a YouGoverner!
Showing posts with label Life and Death. Show all posts
Showing posts with label Life and Death. Show all posts

Sunday, June 6, 2021

کرونا/کوویڈ ہمیں قریب لایا


Covid یا کرونا وائرس جس نے تاحال اپنی آمد سے لے کر اب تک دنیا میں تہلکہ مچایا ہوا ہے. چین کے شہر Wuhan سے پھوٹنے والا یہ عذاب اب تک نجانے کتنے لوگ اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، لیکن پھر بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق، اب تک پوری دنیا میں تقریباً تیس لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل ہو چکے ہیں- 

دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس چھوٹی سی مخلوق  کے آگے زیر ہو چکی ہیں، جبکہ ان ممالک میں جدت کی ریل پیل ہے- سپر پاور، ایشیائی ٹائیگر اور ناجانے کتنے ہی خوبرو القابات سے نوازے جانے والے یہی یورپی، امریکی اور ایشیائی ممالک اب تک کی کوششوں کے باوجود یہی کرسکے ہیں کہ لاک ڈاؤن کردو، کرفیو لگا دو، اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو جو، بلا ضرورت  باہر نہ جاؤ، بار بار ہاتھ دھو- گوہ کہ اب بہت سے ملکوں میں ویکسینیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے لیکن پھر بھی یہ وائرس لوگوں کے کنٹرول میں نہیں آرہا بلکہ بھارت میں تو Double Mutant نامی ایک نیا وائرس نکل آیا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے حالات بہت خراب ہیں-

Indian Double Mutant

لیکن کیا یہ کورونا وائرس صرف ایک بیماری ہے یا ہماری لئے ایک لمحہ فکریہ، ایک سوچنے کا موقع کہ ہم اپنی اپنی زندگیوں پر غور کریں، اس کو سدھارنے کی کوشش کریں- یقیناً آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اس مصیبت کی گھڑی میں کیا باتیں کر رہا ہوں، کہاں کے قلابے کہاں ملا رہا ہوں- مگر کچھ پل کیلئے میری بات پر ذرا دھیان دیں- اس کرونا لاک ڈاؤن سے پہلے ہم اپنی مصروف زندگی میں سے کتنا وقت اپنی فیملی کیلئے نکل پاتے تھے، کتنا وقت خود کیلئے اور کتنا وقت رب کیلئے نکل پاتے تھے؟

اس کرونا نے ہمیں اس طرف دھکیل ہی دیا ہے؛ آج ہم گھروں میں محصور ہیں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ ہیں، Work from Home ہی سہی لیکن کھانے پر تو گھر والوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور شام کو بھی کوشش ہوتی ہے کہ چھٹی سے پہلے کام ختم ہوجاے تاکہ لیٹ نہ بیٹھنا پڑے اور وقت گھر والوں کے ساتھ گزرے- پھر ان حالات کے پیش نظر رب کے ساتھ بھی خاصا تعلق استوار کیا جا رہا ہے، گویا کہ رب کو منایا جا رہا ہے- دعایئں مانگیں جا رہی ہیں، عبادات میں وقت لگایا جا رہا ہے کہ کسی طرح یہ بلا، یہ آفت ٹل جائے اور ہم پھر سے نارمل زندگی کی طرف لوٹ آیئں- ادھر وہ ڈاکٹر بھی جو ہڑتالیں کرنے میں ماہر تھے، اپنی اخلاقی ذمہداری کے ایسے نشان قائم کر رہے ہیں کہ ہر طرف انھیں ملکی سرحدوں کے محافظوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جا رہا ہے اور پولیس جو تقریباً ہر ملک میں کسی حد تک بدنام ہوتی  ہی ہے، وہ بھی آگے بڑھ کر لوگوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر لئے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے- 

Days in Lockdown

غالباً اس کرونا نے انسانیت کو قریب کر دیا ہے- قریب؟ کیا ہم دور تھے اور دور بھی کس سے؟ فیملی اور بیوی بچوں سے، دوستوں سے یا فلاحی کاموں سے یا پھر اپنے آپ سے؟ اچھا تو آپ رب سے دوری کی بات کر رہے ہوں گے؟ ارے دور تو ہم اب ہیں؛ کسی سے ہاتھ نہیں ملا سکتے، گلے نہیں مل سکتے، کسی دعوت پر نہیں جا سکتے، دوست نہیں آ سکتے اور بہت ساری دیگر ممنوعات ہیں-

شاید یہی ساری سوچیں اور سوالات آپ کے ذھن میں گھوم پھر رہے ہوں گے- چلیں ان باتوں پر تھوڑا غور کر لیتے ہیں- آپ کہتے ہیں کہ فیملی کیلئے ہی تو اتنی محنت کرتے ہیں تاکہ ترقی ملے اور انہیں ایک اچھا لائف سٹائل دیا جاسکے، بچے اچھے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ کر کچھ بن سکیں اور بڑھاپے کا سہارا بنیں- لیکن اس دوڑ دھوپ میں آپ کتنا وقت انکی پرورش پر لگاتے ہیں، انھیں اچھائی برائی کا فرق سمجھاتے ہیں، میل ملاپ کی تمیز دلاتے ہیں یا کبھی ان کو اپنی ثقافت اور ورثہ سے روشناس کرواتے ہیں؟

People in Lockdown
 پھر دوست احباب کا قصہ تو گول ہی سمجھوں کیونکہ آپ کے مطابق جب کام پڑتا ہے تو دوست ہی تو کام آتے ہیں- لیکن کیا دوست صرف انہی موقعوں کیلئے ہوتے ہیں یا زندگی گلزار کرنے کیلئے ہوتے ہیں؟ کیا ان کا گاہے بگاہے حال و احوال پوچھنا غلط ہے؟ کیا ان کا آپ پر کوئی حق نہیں یا صرف آپ ہی حقدار ہیں؟ رہی بات فلاحی کاموں کی تو ان کیلئے بھی ہر شخص صرف ایک تمغہ جمع کر رہا ہے کہ رہتی دنیا میں اپنا بھی کوئی نام ہوجاے؛ حشر میں میرا کوئی گواہ ہوجاے- 

اور پھر خود کیلئے بھی یقیناً آپ وقت نکال ہی لیتے ہوں گے؛ سوشل میڈیا جو ہے--- کتنے ہی ذرائع ہیں لطف اندوز ہونے کیلئے؛ Facebook, Instagram, Twitter, Pinterest اور YouTube تو کمال کی چیز ہے-  ہے نہ؟ ان کا استمعال بری بات نہیں، لیکن ان چینلز پر آپ کتنا مثبت مواد حاصل کر پاتے ہیں؟ گانے سننے، ڈرامے دیکھنے، ٹک ٹاک دیکھنے، دوسروں کی پروفائلز میں تانک جھانک کرنے اور غیر ضروری مباحثوں کے علاوہ کیا کر لیتے ہیں؟ کتنی بار آپ کچھ اچھا سیکھتے ہیں  یا کسی پر کوئی مثبت اثر ڈالتے ہیں؟ 

اور رب تو ہمیں یاد ہی کام کے وقت آتا ہے؛ جب کچھ چاہیے ہو یا کوئی مراد پوری کروانی ہو یا پھر کسی مصیبت سے نجات چاہیے ہو- جیسے ابھی اس کرونا نے ہمیں رب کے قریب کر دیا ہے کہ وہ خداے بزرگ و برتر ہمیں اس بیماری سے بچا لے- ہم قریب ہوگئے ہیں انسانیت کے؛ سب ایک دوسرے کیلئے دعاگو ہیں کہ رب اس آفت سے سب کو محفوظ رکھے- ہم قریب ہوگئے ہیں اپنے گھروں کے، کہ والدین کی خدمت میں زیادہ وقت لگا سکتے ہیں، بچوں کو اپنے تجربات سے دنیا کی سیر کرواسکتے ہیں؟

Personal Experiences
Human Life
اپنے علم سے ان کے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں، اپنے ثقافتی ورثے کی پہچان کروا سکتے ہیں- وہ احباب جن سے ناجانے کب سے بات نہیں کرپاۓ ان سے دل ہلکا کر سکتے ہیں، ان کی خیریت دریافت کر سکتے ہیں، ان کے زخموں پر باتوں اور محبت کا مرحم رکھ سکتے ہیں-

اور رہی بات اپنی تو بہت سے معملات میں اپنی خود کی اصلاح کر سکتے ہیں، کوئی اچھی کتاب پڑھ سکتے ہیں، کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں یا بہت سے ادھورے کام پورے کرسکتے ہیں- سوشل میڈیا  بھی ایک اچھی چیز ہے لیکن فائدہ اس وقت ہوگا جب ہم اس پر صرف وقت گزاری کی بجاے کچھ مثبت اور اچھا سیکھیں-

یقیناً یہ ایک لاک ڈاؤن اور مشکل گھڑی ہے، لیکن اس نے انجانے میں ہمیں قریب کردیا ہے اور ہمیں ایک موقع دیا ہے خود کو بدلنے کا، خود کو سدھارنے کا، خود کو ایک بہتر انسان بنانے کا اور اس دنیا، اس تماشہ گاہ کو ایک بہتر جگہ بنانے کا- انسان صرف کوشش کر سکتا ہے اور کوشش جاری رہنی چاہیے کیونکہ امید سحر سے ہی شمع خورشید روشن ہوتی ہے اور روشنی ہی منزل کا نشان واضح کرتی ہے- اجالا ہی اندھیرے کا سدباب کرسکتا ہے اور ہر مثبت کوشش اس اجالے کا ایندھن ہے جو نسلوں نسلوں کو دنیا و آخرت کی خوشحالی پر استوار کرتا ہے-

رب کریم ہم سب کو تمام آفات سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایک بہتر و مثبت انسان بننے کی توفیق عطا فرماے- آمین ثم آمین



Image Courtesy:
1- Reuters
2- The Atlantic
3- Medium
4- Mama Cash
5- Ideo

Wednesday, January 13, 2016

A Wayfarer's Life

Since the inception of Humans, the cycle of life demands an end, at a certain stage of life. During that cycle of life, we go through many phases, growing gradually to our end. These phases of life have it all, what we earn through our worldly acts, leading us to sometimes, path of glory or towards satanic path.
Sometime ago, We lost our friend in a road side accident, while he was coming back from his office to home. The incident shocked all of us, as we were busy in our worldly affairs and was not expecting it, this soon. A question suddenly struck me, that how could we forget our end and the decided cycle of life. Working towards the answer, I found a fact which is our eternal fate and that is "We are living a Wayfarer's Life".

As a wayfarer we are just time traveling, covering events of life and collecting things we need to earn different badges to complete our luggage for final destination. A destination that is yet to come, but long forgotten. As a matter of fact, we are busy in things less important than those we need to fulfill at any cost. Its our responsibility to prepare for the final trip, like we pack our bags for any worldly trip.

A wayfarer doesn't pay heed to things he pass through his travel, instead he focuses only on his target destination and only pick things, he need to move further. A wayfarer's mission is to successfully complete his/her journey by fulfilling his/her goals. Are we fulfilling the Goals of Final Journey?

The answer that I found is NO, we are not. We are living this life as it will never end, forgetting the fact that Every thing which has life, has an end also. No matter, whom we belong to, which religion we follow, which place we live, how much wealthy or poor we are, we have a family or we are alone, we all have our decided eternal fate and that is "Death". Now the question is; what we are going to take with us, when we are no more of this world. All our wealth, our family, our relations, our friends, our life's achievements i.e. awards, certification, degrees & trophies, will be no more with us. The only thing that follow us there is our DEEDS.

Our close ties (Holy Faith) with God Almighty and HIS Holy Final Messenger; Prophet Muhammad (Peace & Blessings Be Upon Him), our deeds where we helped someone, where we did good with someone, where we stand for righteousness, where we strive for the betterment of society, where we refrained from bad deeds, where we give Love & Respect to our elders & juniors, where we saved someone's life, where we remained true to our responsibilities and all that will be with us in Our Eternal Home - Our Grave.

So, it is my utmost effort and initiative to remind all of us our Eternal Duties, so that we may found peace & blessings of God Almighty.

May God bless us all with Holy Faith, HIS Peace & HIS Blessings and HIS Holy Guidance, so that we may find rest in peace. Ameen Sumameen